• Latest News

    Thursday, 9 June 2016

    Maulana Tariq Jameel meeting with Javed Chaudhry


    یہ مسجد نبوی کا منظر تھا‘ اللہ کے رسول نماز کے بعد مسجد میں تشریف رکھتے تھے‘ اصحاب گھیرا ڈال کر بیٹھ جاتے تھے‘ دنیا جہاں کی گفتگو ہوتی تھی‘ یہ گفتگو دین اور دنیا دونوں کی مشعل ہوتی تھی‘ آپ ایک دن تشریف فرما تھے‘ اللہ کے رسول نے مسجد نبوی کے ایک دروازے کی طرف دیکھا اور فرمایا ” اس دروازے سے ابھی ایک جنتی اندر داخل ہو گا“ صحابہؓ نے اپنی نظریں دروازے پر جما دیں‘ زیادہ وقت نہیں گزرا ‘ دروازے سے ایک ضعیف انصاری اندر داخل ہوئے‘ سلام کیا اور چپ چاپ محفل میں بیٹھ گئے‘ دن گزر گیا‘ دوسرے دن دوبارہ محفل لگی‘ اللہ کے رسول سوالوں کے جواب دے رہے تھے‘ آپ نے ایک بار پھر اس دروازے کی طرف دیکھا اور فرمایا ”اس دروازے سے ابھی ایک جنتی اندر داخل ہو گا“ صحابہؓ دوبارہ دروازے پر نظریں جما کر بیٹھ گئے‘ تھوڑی دیر بعد وہی بزرگ صحابیؓ اندر داخل ہو ئے‘ سلام کیا اور چپ چاپ بیٹھ گئے‘ تیسرے دن بھی اللہ کے رسول نے فرمایا ”اس دروازے سے ابھی ایک جنتی اندر داخل ہو گا“ اور اس دن بھی وہی صحابیؓ تیسری بار اندر داخل ہو گئے‘ محفل میں ایک ایسے صحابیؓ بھی موجود تھے جن کی عبادت گزاری انتہا کو چھو رہی تھی‘ وہ رات بھر عبادت کرتے تھے‘ صبح روزہ رکھتے تھے اور دن میں ایک قرآن مجید ختم کرتے تھے‘ ان کی یہ عبادت گزاری دیکھ کر اللہ کے رسول نے ان پر پابندی لگا دی‘ آپ رات کو آرام بھی کریں گے‘ ایک دن چھوڑ کر ایک روزہ رکھیں گے اور تین دن میں ایک قرآن مجید ختم کریں گے‘ ان کا نام حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ تھا‘ یہ عبادت گزار ترین صحابی تھے‘ یہ تینوں دن رسول اللہ ﷺکی محفل میں موجود تھے‘ یہ اس غیر معروف انصاری صحابی ؓکے بارے میں یہ بشارت سن کر حیران رہ گئے اور انہوں نے سوچا یہ شخص یقینا مجھ سے زیادہ عبادت کرتا ہو گا چنانچہ وہ اگلے دن اس صحابیؓ کے گھر چلے گئے اور چند دن کےلئے مہمان بننے کی درخواست کی‘ مدینہ میں ان دنوں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ کوئی مہمان آئے اور صاحب خانہ اس کی میزبانی سے انکار کرے لہٰذا انصاری صحابیؓ نے اپنے دروازے ان کےلئے کھول دیئے‘ مہمان اور میزبان دونوں نے رات کا کھانا کھایا‘ عشاءکی نماز پڑھی اور چارپائیوں پر چلے گئے‘ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓنے منہ پر چادر تانی‘ چادر میں ایک درز بنائی اور چھپ کر بزرگ صحابیؓ کی چارپائی کی طرف دیکھنے لگے‘ ان کا خیال تھا‘ یہ بزرگ اٹھیں گے اور عبادت شروع کر دیں گے مگر بزرگ صحابیؓ نے چادر تانی اور صبح فجر کی نماز تک مزے سے سوتے رہے‘ حضرت عبدللہ بن عمروؓ حیران رہ گئے‘ بزرگ صحابیؓ نے فجر کی نماز ادا کی‘ ناشتہ کیا اور کام پر روانہ ہو گئے‘ اگلی رات آئی‘ حضرت عبداللہ ؓکا خیال تھا‘ یہ اس رات عبادت کریں گے مگر وہ اس رات بھی عشاءکی نماز کے بعد لمبی تان کر سو گئے‘ تیسری رات آئی تو اس بار بھی یہی ہوا وہ انصاری صحابیؓ جس کو نبی اکرم نے تین بار جنت کی بشارت دی تھی‘ وہ تیسری رات بھی لمبی تان کر سو گئے‘ یہ وہ دور تھا جب مدینہ کا کوئی شہری تہجد بھی ضائع نہیں کرتا تھا جبکہ وہ صحابیؓ صرف فجر کے وقت اٹھتے تھے‘ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ پریشان ہو ئے اور انہوں نے چوتھے دن بات کھول دی‘ انہوں نے فرمایا‘ اللہ کے رسول نے آپ کےلئے تین دن مسلسل جنت کی بشارت دی تھی‘ میں یہ معلوم کرنے کےلئے آپ کے گھر ٹھہرا تھا‘ آپ کون سی ایسی عبادت‘ کون سا ایسا فعل کرتے ہیں جس کی وجہ سے اللہ کے رسول نے آپ کو جنت کا حق دار قرار دیا لیکن مجھے ان تین دنوں میں آپ میں کوئی انوکھی بات نظر نہیں آئی‘ آپ کی زندگی صرف فرائض تک محدود ہے‘ آپ نفلی عبادت تک نہیں کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیوں منتخب کیا؟ بزرگ صحابیؓ نے قہقہہ لگایا اور فرمایا ” بھتیجے میں جیسا ہوں ‘ میں آپ کے سامنے ہوں‘ میں اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوں“ حضرت عبداللہؓ مایوس ہو کر روانہ ہونے لگے‘ وہ دروازے تک پہنچے تو بزرگ صحابیؓ نے آواز لگائی ”بھتیجے سنو‘ بھتیجے سنو“ حضرت عبداللہ واپس مڑ آئے‘ بزرگ انصاری صحابیؓ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور کہا ” میری اس جگہ دنیا کے کسی شخص کےلئے کوئی بغض‘ کوئی نفرت اور کوئی حسد نہیں‘ اللہ تعالیٰ جب بھی کسی شخص کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو میں دکھی نہیں ہوتا‘ میں خوش ہوتا ہوں‘ ‘ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے یہ سنا تو انہیں کرنٹ سا لگا اور وہ چلا کر بولے ” یہی ہے وہ‘ یہی ہے وہ“۔
    • Blogger Comments
    • Facebook Comments

    0 comments:

    Post a Comment

    Item Reviewed: Maulana Tariq Jameel meeting with Javed Chaudhry Rating: 5 Reviewed By: M Ammar Qasim Siddiqui
    Scroll to Top